تہران،10ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)ایران کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف معاندانہ بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسے قبل حج کو سیاست سے آلودہ کرنے اور اس کو فرقہ وارانہ نعروں کے پھیلانے کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد تہران میں مُلائی نظام نے اپنے شہریوں کو رواں سال فریضہ حج کی ادائیگی سے روک دیا تھا۔تہران کی جانب سے نیا ہذیانی بیان ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کے بیورو کے ڈائریکٹر محمد محمدی کلبایکانی کی زبانی سامنے آیا ہے۔ کلبایکانی نے سعودیوں کو دائرہ اسلام سے خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سرکشوں اور لات اور عزی کی اولاد ہیں۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان خون کے سمندرہیں۔ایران کی جانب سے رواں سال اپنے شہریوں کو حج ادا کرنے سے روک دینے کے بعد تہران نے اپنی ملیشیاؤں اور پاسداران انقلاب کے ارکان کو جعلی پاسپورٹوں کے ذریعے عراقی حجاج کی صفوں میں شامل کر کے مملکت بھیجنے کی کوشش کی۔ اس کا مقصد دیار مقدسہ میں دنیا بھر کے مسلمانوں کے جمع ہونے پر انارکی اور شورش پھیلانا تھا۔حج سیزن کے استحصال کے لیے اپنی بھرپور کوششوں کے انکشاف کے بعد ایران اب گزشتہ برس منی میں پیش آنے والے بھگدڑ کے معاملے کو پھر سے اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس اس واقعے میں متعدد ایرانی سینئر سفارت کار اور ایرانی انٹیلجنس کے ارکان ملوث تھے جن میں سے بعض اس حادثے کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ بھی دھو بیٹھے۔ یہ عناصر حج کے لیے سفارتی پاسپورٹوں کے بغیر آئے تھے۔ مجموعی طور پر ان سکیورٹی ، فوجی اور سفارتی اہل کاروں کی تعداد 16تھی۔ ان میں لبنان میں سابق ایرانی سفیر غضنفر رکن آبادی بھی شامل تھا جو لبنان میں تہران کا خاص آدمی شمار کیا جاتا تھا۔ اس نے طول عرصے تک لبنانی دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کو اسلحے کی فراہمی کے معاملے کی نگرانی کی تھی۔ اس کے علاوہ ایرانی انٹیلی جنس کے بھی بعض اہم نام اس گھناؤنی سازش میں ملوث ہونے کے حوالے سے سامنے آئے۔ایران کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف معاندانہ بیانات اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان مظاہروں کا انتظام باسیج ملیشیاؤں اور ایرانی مرشد اعلی اور نظام کی قیادت کے قریب سمجھے جانے والے پریشر گروپ کرتے ہیں۔ اس سے قبل ریاض نے پوری دوراندیشی اور عزم کے ساتھ تہران میں ولایت فقیہہ کے نظام کی جانب سے سیاسی شرائط مسلط کرنے اور مناسک حج سے غیر متعلق رسموں کی ادائیگی شامل کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں تہران نے رواں سال اپنے شہریوں کو حج پر جانے سے روک دیا۔ایرانی نظام سعودی عرب کو ملامت کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ اس معاملے کو فرقہ وارانہ نعروں اور بیانات کے ذریعے سیاسی اور مسلکی عداوت میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد رواں سال اپنے شہریوں کو فریضہ حج سے محروم کرنے کی ذمہ داری سے جان چھڑانا ہے۔